Departure & Arrival by T.S.Eliot

REFERENCE: These lines have been taken from “Departure and Arrival” written by “T.S. Eliot.”
CONTEXT: In this poem, the poet tells that when we are ready to start our journey, different doubts surround us but we should not feel afraid of anything and continue our journey with strong planning.
سیاق و سباق: اس نظم میں شاعر  بتاتا ہے کہ جب ہم اپنا سفر شروع کرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں تو مختلف قسم کے شکوک ہمیں گھیر لیتے ہیں لیکن  ہمیں کسی چیز سے ڈرنا نہیں چاہئیے اور  ٹھوس منصوبہ بندی کیساتھ اپنا سفر جاری رکھنا چاہئیے۔
EXPLANATION: Actually, this poem is remarkable for Eliot’s faith in idealism and optimism coupled with courage and fortitude. The poet believes:“Life without great aims and ideals is just breathing.” That’s why, he urges us to set high goals and strive to get them. In the given lines, the poet says that life is like a voyage on some ocean. When we determine our goal and get ready to start our voyage, different doubts and apprehensions surround us to discourage. There is no light or chart to guide us. There may be so many obstacles in our way but we should not cease our journey and with the song of optimism on our lips, we must go ahead because individuals and nations wither away or perish without vision. We must plan before our departure so that we may leave a legacy of benefits for our coming generations so that they may feel proud of our achievements. This is the only way with which we can make the world prosperous. It shows that Eliot is an idealist because he believes in good future.

تشریح: اصل میں  یہ نظم ایلیٹ کے آئیڈیلزم پر ایمان اور پرامیدی  جو کہ حوصلے اور ثابت قدمی سے جڑی ہوئی ہے  کی وجہ سے بہت اہم ہے۔ شاعر کو یقین ہے   “بڑے مقاصد اور آئیڈیلز کے بغیر  زنگی صرف سانس لینے کا نام ہے۔ ” اسی لئے وہ ہمیں اعلٰی مقاصد اپنانے اور انکو حاصل  کرنے کی کوشش پر اکساتا ہے۔ دی گئی لائنوں میں شاعر کہتا ہے کہ زندگی ایک ساحل پر بحری سفر کا نام ہے۔ جب ہم اپنی منزل کا تعین کرتے ہیں اور اپنا سفر شروع کرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں تو مختلف خدشات  ہماری حوصلہ شکنی کر کیلئے ہمیں گھیر لیتے ہیں۔ ہماری رہنمائی کیلئے  کوئی روشنی یا کوئی  نقشہ نہیں ہوتا۔ ہو سکتا ہے کہ ہمارے راستے میں بہت ساری رکاوٹیں ہوں لیکن ہمیں اپنا سفر روکنا نہیں چاہئیے اور اپنے ہونٹوں پر امید کا گیت لئے ہمیں ضرور آگے بڑھنا چاہئے کیونکہ بغیر تصور کے  افراد یا قومیں  مرجھا جاتے ہیں یا ختم ہو جاتے ہیں۔ہمیں اپنی روانگی سے قبل ضرور منصوبہ بنانا چاہئے تا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کیلئے مفادات کی ایک وراثت چھوڑ سکیں تا انہیں ہمارے کارناموں پر فخر ہو۔ یہ وہ واحد  طریقہ ہے جسکے زریعے ہم دنیا کو خوشحال بنا سکتے ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایلیٹ ایک آئڈیلسٹ ہے کیونکہ وہ اچھے مستقبل پر یقین رکھتا ہے۔  

Comments are closed.